مینگلور 13 جولائی (ایس او نیوز) ساحلی کرناٹک سمیت پہاڑی علاقوں میں بھاری بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں مینگلورسے بینگلور جانے والی قومی شاہراہ پر سکلیشپور کے دونیگل میں زمین کھسکنے اور پہاڑ پر سے چٹانیں گرنے کا سلسلہ بھی تھم نہیں رہا ہے، اس خطرے کو بھا نپتے ہوئے اب یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ حکام اس راستہ پر سے بڑی سواریوں کے گذر کو بند کرسکتے ہیں۔
مقامی لوگ بار بار مٹی اور پہاڑی تودے کھسک کر سڑک پر گرنے کے لئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے آفسران کی غفلت کو ذمہ دار ٹہرارہے ہیں عوام کا کہنا ہے کہ ہاسن۔ مارن ہلّی 47 کلو میٹر تک دونیگال میں 120 فٹ گہرا اور 800 میٹر لمبا فورلائن کام کے لئے زمین کی حصولیابی کی گئی تھی، مگر اب تک بیرئیر تعمیر نہیں کیا گیا، اسی کا نتیجہ ہے کہ 2020 سے ہر سال بارش کے موسم میں پہاڑی پر سے مٹی سڑک پر پھسل جاتی ہے
پہاڑی علاقوں میں گزشتہ دو ہفتوں سے ہونے والی بارشیں معتدل ہیں۔ عام طور پر جولائی کے آخری ہفتے اور اگست کے مہینے میں تیز بارش ہوتی ہے۔ ایک وقت میں 24 گھنٹوں میں اوسطاً 20 سینٹی میٹر۔ بارش ہوتی ہے۔ لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر ایسی ہی بارش ہوتی رہی تو نہ صرف بنگلور-منگلور ہائی وے بلکہ اس کے اوپر والی سکلیش پور- کین ہلّی سڑک بھی منہدم ہو سکتی ہے۔
اگست 2020 میں جب لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تو شدید بارشوں کی وجہ سے عارضی دیوار کی تعمیر ممکن نہیں ہوسکی تھی۔ جس کی وجہ سے اس راستے پر 4 ماہ سے گاڑیوں کی آمدورفت مکمل طور پر بند کی گئی تھی۔ جولائی 2021 تک مستقل دیوار تعمیر نہیں کی گئی تھی۔ جولائی کے آخری ہفتے میں بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے دارالحکومت اور ساحلی علاقوں کے درمیان گاڑیوں کی آمدورفت پھر سے بند ہوگئی تھی۔